Pakistan Correspondents Union Since 1972     The Biggest Union of All World

Golden Annals of 45 Years History of Pakistan's Largest Journalists Association Pakistan Correspondents Union (P.C.U.)

Home

Executive Body

General Body

Introduction

Chairman PCU

Nobel Achievement

PCU Media Group

Punjab Press Club

Pubic Services

Equalization

PCU Welfare Trust

PCU Institute of Journalism

PCU News TV

PCU Newspaper

PCU Legal Council

Constitution

Pakistan Journalists Encyclopedia

Contact Us

Chairman PCU & PPC  Syed Kousar Javed Bijnori

 

It gives me immense pleasure to welcome you to the website of Punjab Press Club. The Club was founded with a mission to create a difference to the field of journalism in particular and the community of the World at large.Initially, the days were long and hard, but with faith and determination in mind, we strived forward, overcoming obstacles coming our way ALHAMDOLILLAH!. As we look back today, we are contended to note that our efforts have not been in vain and our undertakings have helped the suffering community. Our commitments with Field Journalists were uncompromising and unswerving. These precedents were set an example for others to follow in our chosen line of work.

Finally, our strive does not end here, we look forward with hope and inspiration to work as one big family, in order to combine our efforts and resolve the issues of Field Journalist Community
.
Please join me in praying for the success and unity of our Community and beloved Country, Pakistan.
 


              PAKISTAN ZINDABAD


              Syed Kausar Javed Bijnori
                                            Chairman
                              Punjab Press Club,
                                          Islamabad.


Syed Kausar Javed Bijnori is an educationalist, journalist and above all is well known for his philanthropist activities. He is also the founder and life Chairman of the Punjab Press Club.
Mr. Bijnori is an icon and a pillar of journalism in Pakistan. Apart from Punjab Press Club, Punjab Correspondence Union, He also heads numerous social and nongovernmental Organizations. He is also the recipient of several awards from The Government of Pakistan and Media Organizations.
In the year 2001, the Executive Body and the General Body of Punjab Press Club® nominated Syed Kausar Javed Bijnori as Chairman for Life. This award was conferred on him for his outstanding services to this Organization.

 

سید کوثر جاوید بجنوری ایک عہد ایک تاریخ


( تحریر: ندیم اسلم


صحافت کو ہر ملک میں ریاست کے چوتھے ستون کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے ، صحافی معاشرے میں ہونے والی تمام تبدیلیوں اور رونما ہونے والے واقعات پر کڑی نظر رکھتے ہیں اگر یہ کہوں تو کچھ غلط نہ ہو گا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ ، کان اور زبان کی حیثیت رکھتے ہیں یہ معاشرے میں ہونے والی زیادتیوں نا انصافیوں اور جبرو ظلم کا پردہ چاک کر تے ہیں ، جو دیکھتے ہیں جو سنتے ہیں اقتدار کے ایوانوں تک پہنچاتے ہیں اس طرح صحافی عوام اور حکومت کے درمیان رابطے کے ایک اہم پل کا کر دار بھی ادا کر تے ہیں اور انہیں اس فریضہ کی ادائیگی میں جو مشکلات پیش آتی ہیں وہ نا قابل بیان ہیں کبھی کبھی تو موت سے بھی پنجہ آزمائی کر نا پڑ تی ہے، صحافی کسی بھی جبرو ظلم کے آگے سر نہیں جھکاتا وہ حق اور سچ کی آواز بن جاتا ہے اور یہی اس کی کاز ہے، راقم آج ایسی ہی نڈر بے باک شخصیت معروف صحافی، کالم نگار، رائیٹر، نقاد شا،عر اور ادیب سید کوثر جاوید بجنوری سے آپکا تعارف کر وارہا ہے ، کوثر جاوید بجنوری صحافت کے افق پر چمکنے والے ایک ایسے ستارے کا نام ہے جو کئی عشرے گزر جانے کے بعد بھی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک دمک رہا ہے ان کا صحافتی علمی و ادبی سفر نصف صدی سے بھی زیادہ پر محیط ہے ، پاکستان کے فیلڈ میں کام کر نے والے صحافیوں کی سب سے بڑی صحافتی تنظیم ’’پاکستان کارسپانڈنٹس یونین ‘‘PCUکی44سالہ تاریخ کے سنہری اوراق اسی شخصیت کے نام سے رقم ہیں ، سید کوثر جاوید بجنوری نے اپنے صحافتی سفر کا آغاز1962 ؁ء سے شروع کیا، مختلف اوقات میں مختلف قومی اخبارات میں لکھتے رہے، آج بھی ملکی میڈیا کے ایک بڑے ادارے سے وابستہ ہیں ، ان کی فعال اور متحرک ادبی شخصیت سے میں اس لئے بھی متاثر ہوں کہ انہوں نے کئی مشہور ادیبوں اور شاعروں کی ادبی سوچ کی رہنمائی بھی کی ہے اور پذیرائی بھی، اس کے علاوہ ان کی تخلیقی ،تحقیقی، اور مثبت تنقیدی کاوشیں قابل قدر ہیں اس وقت وہ اردو ادب کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے اور عالمی سطح پر اس کی ترویج کیلئے کام کررہے ہیں، سید کوثر جاوید بجنوری نے ملکی میڈیا کی تعمیر و تر قی کیلئے اور اسے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے میڈیا کے برا بر لانے کیلئے انتھک محنت سے کام کیا انہوں نے جب یہ محسوس کیا کہ اپنے ملک کے فیلڈ میں کام کر نے والے صحافی میڈیا کے بڑے اداوں کیلئے دن رات کام کر نے کے با وجود ان کی سر پرستی سے محروم ہیں تو انہوں نے1972 ؁ء میں ان صحافیوں کو وڈیرہ شاہی کے جبرو ظلم سے بچا نے اور انہیں ان کے حقوق دلا نے کیلئے صحافتی تنظیم ’’پاکستان کارسپانڈنٹس یونین ‘‘ PCUکی بنیاد رکھی جو آج ملک کی سب سے بڑی صحافتی تنظیم کے طور پر کام کررہی ہے اس کے ملک بھر سے رجسٹرڈ ممبر صحافیوں کی تعداد بارہ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، سید کوثر جاوید بجنوری کی زیر سر پرستی ممبر صحافیوں سے مکمل رابطہ قائم کر نے کیلئے تنظیم کا اپنا اخبار تنظیم کے ہی نام سے ہفت روزہ پی سی یو نیوز شائع ہو رہا ہے، اور اس کا اپنا ویب ٹی وی چینل ’’پی سی یو نیوز ٹی وی ‘‘ کے نام سے لانچ ہے اس صحافتی تنظیم کے رابطہ آفس ملک کے بڑے بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ دنیا کے دوسرے ممالک، فرانس آٹریلیا، انگلینڈ، چائنہ، جدہ، ایران اور امریکہ میں قائم ہیں، سید کوثر جاوید بجنوری کی زیر سر پرستی اس صحافتی تنظیمPCUکے آٹھ شعبے متحرک ہیں، جن میں ’’پاکستان کارسپانڈنٹس یونین ‘‘ پنجاب پریس کلب رجسٹرڈ اسلام آباد، پی سی یو انسٹیٹیوٹ آف جرنلزم، پی سی یو ویلفئیر ٹرسٹ، پی سی یو لیگل کونسل، ہفت روزہ پی سی یو نیوز، پی سی یو نیوز ٹی وی، اور پاکستان جرنلسٹ انسائیکلو پیڈیا ، یہ صحافتی تنظیم کے وہ شعبے ہیں جو اپنی مدد آپ کے تحت چلائے جارہے ہیں ، ملکی سطح پر جرنلسٹ انسائیکلوپیڈ یاکی تشکیل حکومتی شعبے کر تے ہیں ، مگر پاکستان میں یہ کام سید کوثر جاوید بجنوری نے اپنی صحافتی تنظیم کے تعاون سے شروع کیا ہے جو نصف سے زیادہ تکمیل پا چکا ہے ، یہاں پر یہ بھی انکشاف کر تا چلوں کہ سید کوثر جاوید بجنوری کی زیر قیادت44سال سے جہد مسلسل کی طرح کام کر نے والی صحافتی تنظیم PCUدنیا کی وہ واحد صحافتی تنظیم ہے جو اپنی مدد آپ کے تحت چلائی جا رہی ہے یہ تنظیم اپنے ممبران سے نہ ماہانہ یا سالانہ چندہ وصول نہیں کر تی، اس نے نہ کبھی کسی ضلعی حکومت سے نہ صوبائی حکومت سے اور نہ پہ کبھی وفاقی حکومت سے امدادی رقم حاصل کی ہے اس کے باوجود تنظیم کا اپنے ممبران سے مسلسل رابطے کیلئے اس کا اخبار بھی شائع ہو رہا ہے جو مفت تنظیم کے ممبران کو فراہم کیا جا رہا ہے، ارباب حکومت نے صحافتی تنظیم PCUکی طرف سے ملک کے تمام اضلاع میں فری ڈسپنسریوں کے قیام کو صحافیوں کا سنہری کارنامہ قرار دیا ہے
سید کوثر جاوید بجنوری کی جب شاعری پر نظر پڑتی ہے تو محسوس ہو تا ہے کہ اتنے آسان پیرائے میں لکھ دینا غنائی نظام میں مربوط کر کے انہیں لافانی جذبوں کی تصویر بنا دینا پھر جگہ جگہ محبت کے پھولوں کی پھلواڑی اگا دینا انہیں کا حصہ ہے، وہ اخوت کی جہانگیری اور محبت کی فرا وانی کے شاعر محسوس ہو تے ہیں انہوں نے اپنی شاعری میں دکھی دلوں کی تر جمانی کی ہے وہ ہمیشہ انسان کی بات کر تے ہیں اور انسان سے متعلق معمولات اور مصروفیات کا سوچتے ہیں تازہ فکر سوچ اور مشاہدے کے ساتھ کائنات کے رموز جاننے کی کوششیں کر تے ہیں اور پھر کائنات سے ذات کی طرف معراجعت کر تے ہیں یہی کسی بڑی تخلیق کے بنیادی عنصر ہیں کہ وہ نفرت سے نفرت اور محبت سے محبت کا عمل آگے بڑھائے برائی کو مزید بر ا اور اچھائی کو مزید اچھا کر کے دکھائے زندگی کے حسن اور ذائقے حسیات کے عمل میں گوند کر نیا خمیر اٹھائے۔ سید کوثرجاوید بجنوری کی دو کتابیں ، فلسطین کی مجاہدہ اور زرد پتے، ان کی انمول کاوشیں ہیں وہ جبرو ظلم کے خلاف کیا جذبہ رکھتے ہیں ان کے ان اشعار سے قارئین بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں،
پھر لئے نکلا ہے کوثر ہاتھ میں تلوار کو
پھر تڑپ کر چومتی ہیں بجلیاں رخسار کو

بطل حریت ہیں کسی سے ہم کبھی ڈرتے نہیں
کون روکے گا ہمارے جرات اظہار کو
اور جب یہ شاعر وطن عزیز کی ٹھنڈی اور حسین وادی میں محبت کا دیپ جلا رہا ہوتا ہے تو کہنے پر مجبور ہو جا تا ہے کہ
کون ہے وہ جس سے کوثر پھر بجایا دل کا ساز
کسی نے پھر نظریں جھکا کر لوٹ لی دنیا تیری

ان کی کتاب زرد پتوں سے یہ شعر مجھے بے حد پسند آئے ہیں

ہم سے جو تیرے پیار کے رشتے بدل گئے
آنکھوں میں آکے آج یہ آنسو مچل گئے
کوثر کیوں دیکھتے ہوحسرت سے اب اسے
محفل وہی ہے آج بھی مہماں بدل گئے

سید کوثر جاوید بجنوری کی شاعری میں جہاں قدیم اور جدید طرز فکر کا حسین امتزاج ہے وہاں نئے نئے قافئے اور ردیف بھی زمین و دل کو مسخر کر تے ہیں ان کی ایک غزل کے یہ اشعار میرے دل میں اتر چکے ہیں وہ لکھتے ہیں

دکھ کے گہرے سمندر میں ڈوبی ہوئی
داستاں اپنے غم کی سنائیں کسے
یہ فلک بھی ہے خاموش اور رات بھی
سورہے ہیں سبھی ہم جگائیں کسے
دیکھتے ہیں یہاں کھلتے پھولوں کو لوگ
دل پہ چھالے ہیں جو ہم دکھائیں کسے
وہ بہت دور ہیں اور مجبور ہیں
تم ہو بے چین کوثر بتائیں کسے
مجھے یقین ہے کہ قارئین کرام کو ہمہ جہت اور وسیع کائناتی حقیقتوں کی عکاسی نظر آئے گی اور حسان و آگہی کے در کھلتے نظر آئیں گے، سید ثرجاوید بجنوری کے خامہ گلفشاں نے کائنات کے ہمہ جہت موضوعات پر خوبصورت تر بلکہ رنگ و نور کی پارش بھی کی ہے انہوں نے اپنے کالموں کے ذریعے معاشرتی سماجی مسائل کا احاطہ کیا ہے اور اسی لئے ان کے کالموں کو قارئین سے زبر دست پذیرائی ملتی ہے میرے دلی دعا ہے کہ اللہ رب العزت ان کے علم و فن کو مزید وسعتیں عطاء فر مائے اور ان کی تحریروں سے قارئین کے دلوں کو جلا اور روح کو تازگی حاصل ہو ( آمین )  

 

PAKISTAN CORRESPONDENT'S UNION           Since : 1972

Copyright © 2017. Punjab Press Club Islamabad Pakistan. All rights reserved.